الحمد
للہ :
حج اکبرکا دن یوم النحر کا دن ہے ( اوریہ ذوالحجہ کی دس
تاریخ ہے ) ، امام ابوداود رحمہ اللہ تعالی نے ابن عمررضي اللہ تعالی عنہما سے بیان
کیا ہے کہ : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا اس حج میں آپ صلی اللہ
علیہ وسلم یوم النحر ( قربانی والے دن ) والے دن کھڑے ہوئے اورفرمایا : یہ کونسا دن
ہے ؟ توصحابہ کرام نے عرض کیا قربانی کا دن تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا : یہ حج اکبر کا دن ہے ۔
سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1945 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود (
1700 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اورامام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے
کہ :
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ
نے قربانی والے دن منی میں ان لوگوں کےساتھ بھیجا جویہ اعلان کررہے تھے : ( اس برس
کے بعد کوئي مشرک حج نہ کرے ، اورنہ ہی ننگے ہوکربیت اللہ کا طواف کرے ) ۔ صحیح
بخاری حدیث نمبر ( 369 ) ۔
اورقربانی والے دن کوحج اکبر کا دن اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں وقوف عرفہ کی
رات اورمشعرحرام میں رات بسر کرنا ، اوراس کے دن میں رمی کرکے قربانی کرنا اورسرمنڈوانا
اوراس کےبعد طواف افاضہ اورسعی کرنا حج کے اعمال میں شامل ہوتا ہے ، اوریوم الحج ایک
زمانہ اوروقت ہے اورحج اکبر اس میں کیے جانے والے اعمال ہيں ۔
اورقرآن مجید میں بھی حج اکبر کے دن کا ذکر موجود ہے اللہ سبحانہ وتعالی کا
فرمان ہے :
﴿ اوراللہ تعالی اوراس کے رسول کی طرف سے لوگوں کوبڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے ﴾
التوبۃ ( 3 ) ۔
اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔ .