الحمد
للہ :
اول:
اصل اور صحيح بات يہى ہے كہ كسمٹم
اور لوگوں كے لائے جانے والے سامان پر حاصل كردہ فيس حرام ہے.
كيونكہ يہ ظلم اور ايسا كرنے ميں ظلم
ميں معاونت ہوتى ہے، جبكہ كسى بھى معصوم مال كو مالك كى مرضى اور خوشى كے بغير حاصل
كرنا جائز نہيں، ٹيكس كى حرمت پر بہت وضاحت سے نصوص اور دلائل پائے جاتے ہيں اور ان
دلائل ميں بہت شدت سے منع كيا گيا ہے.
ان دلائل ميں سے ايك دليل زنا كا
ارتكاب كرنے والى غامدى قبيلہ كى عورت كے متعلق نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا
فرمان بھى ہے كہ:
" اس نے ايسى توبہ كى ہے اگر ايسى
توبہ ٹيكس لينے والا شخص بھى توبہ كرتا تو اسے بخش ديا جاتا"
صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 1695 ).
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
اس حديث ميں بيان كيا گيا ہے كہ:
ٹيكس لينا سب سے زيادہ قبيح معاصى
اور ہلاك كردينے والے گناہوں ميں سے ہے، اور يہ اس ليے كہ لوگوں سے اس كا مطالبہ
كثرت سے كيا جاتا ہے، اور بہت زيادہ ظلم ہے، اور يہ تكرار كے ساتھ ہوتا ہے، اور اس
كے ساتھ لوگوں ذليل كيا جاتا اور ان كا مال ناحق چھينا جاتا ہے، اور اس مال كو ناحق
صرف كيا جاتا ہے. اھـ
اور امام احمد اور ابو داود رحمہ اللہ
تعالى نے عقبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ انہوں نے نبى كريم صلى
اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
" ٹيكس ( لينے ) والا شخص جنت ميں
داخل نہيں ہو گا"
مسند احمد حديث نمبر ( 17333 ) سنن
ابو داود حديث نمبر ( 2937 ).
شعيب ارناؤوط رحمہ اللہ تعالى كہتے
ہيں:
يہ حديث حسن لغيرہ ہے، اور علامہ
البانى رحمہ اللہ تعالى نے ضعيف ابو داود ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.
اور لوگوں پر لگائے جانے والے ٹيكس
كو " المكس " اور ٹيكس لينے والے كو" ماكس" يا " مكاس " يا " عشار" كہا جاتا ہے،
كيونكہ وہ لوگوں كے مال كا دسواں حصہ وصول كرتا ہے، علماء كرام نے ٹيكس كى كئى ايك
صورتيں بيان كي ہيں.
اس ميں سے ايك صورت يہ بھى ہے كہ:
جو اہل جاہليت كا وطيرہ تھا، اور
يعنى وہ بازار ميں سامان فروخت كرنے والے شخص سے چند درہم بطور ٹيكس وصول كيا كرتے
تھے.
اور ايك صورت يہ بھى ہے كہ:
وہ درہم جو زكاۃ لينے والا عامل شخص
زكاۃ لينے كے بعد اپنے ليے وصول كرتا تھا.
اور ايك صورت يہ بھى ہے كہ:
وہ درہم جو گزرنے والے تاجروں سے وزن
يا تعداد كے اعتبار سے وصول كيے جاتے تھے, اور يہ صورت كسٹمز كے زيادہ مشابہ اور
قريب ہے.
عون المعبود ميں ان تينوں صورتوں كو
ذكر كرتے ہوئے يہ بيان كيا گيا ہے كہ:
( قاموس ميں ہے كہ:
المكس نقص اور ظلم و زيادتى اور ان
دراہم كو كہتے ہيں، جو دور جاہليت كى ماركيٹ ميں تاجروں سے وصول كيے جاتے تھے.
يا وہ درہم ہيں جو زكاۃ اكٹھى كرنے
والا عامل زكاۃ اكٹھى كرنے كے بعد ليتا تھا.
اور " النھايۃ " ميں ہے كہ:
يہ وہ ٹيكس ہے جو ٹيكس لينے والا
وصول كرتا ہے، جسے دسواں حصہ العشار كہتے ہيں.
اور " شرح السنۃ " ميں كہ:
ٹيكس لينے والے سے وہ شخص مراد ليا
ہے جو تاجر حضرات سے عشر كے نام پر ماركيٹ سے گزرنے پر وصول كيا جاتا ہے. اھـ
اور امام شوكانى رحمہ اللہ تعالى اپنى
كتاب" النيل الاوطار" كہتے ہيں:
( صاحب مكس وہ ہے جو لوگوں سے ناحق
ٹيكس لينے كا كام كرتا ہے ) اھـ
اور بالاجماع ٹيكس حرام ہے، بلكہ بعض
علماء كرام نے تو يہاں تك بيان كيا ہے كہ يہ كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے.
كتاب " مطالب اولى النھى" ميں ہے كہ:
مسلمانوں كے اموال كا دسواں حصہ لينا
حرام ہے، اور حكمرانوں اور بادشاہوں نے لوگوں پر جو ٹيكس مقرر كر ركھے ہيں،
بالاجماع وہ سارے ناحق اور غيرى شرعى ہيں.
قاضى رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے كہ:
اس ميں اجتھاد جائز نہيں ) اھـ
ديكھيں: مطالب اولى النھى ( 2 / 619
).
اور ابن حجر مكى رحمہ اللہ تعالى "
الزواجر عن اقتراف الكبائر" (1/ 180) ميں كہتے ہيں:
( ايك سو تيسواں كبيرہ گناہ: ٹيكس
لينا، اور اس كے تابع اشياء ميں داخل ہونا، مثلا اس كا لكھنا، لوگوں كے حقوق كى
حفاظت كے مقصد سے نہيں كہ اگر ميسر ہوا تو يہ حقوق انہيں واپس كرديے جائيں گے، يہ
مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى ميں داخل ہے:
{راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں
پر ظلم و زيادتى كرتے ہيں، اور زمين ميں ناحق فساد مچانا چاہتے ہيں انہيں كے ليے
المناك قسم كا عذاب ہے } الشورى ( 42 )
ٹيكس لينے والے لوگوں كى سارى اقسام
وانواع بڑے كبير قسم كے ظالموں كے معاون و ممد ہيں، بلكہ وہ تو اپنے آپ پر ظلم كرنے
والے ہيں، چاہے وہ ٹيكس لينے والے ہوں، يا پھر ٹيكس لكھنے والے، يا اس كے گواہ، يا
ماپ تول كرنے والے، يا كوئى اور ہو، كيونكہ يہ سب لوگ وہ كچھ لے رہے ہيں جس كے
مستحق ہى نہيں، اور پھر ديتے بھى اسے ہيں جس كا وہ مستحق نہيں ہے، اسى ليے ٹيكس
لينے والا جنت ميں داخل نہيں ہو گا، كيونكہ اس كا گوشت اور جسم حرام پر پلا ہوا ہے.
اور اس ليے بھى كہ انہوں نے بندوں كے
حقوق اپنے سر اٹھا ركھے ہيں:
اور روز قيامت ٹيكس لينے والے كے پاس
اتنا كچھ كہاں ہو گا كہ وہ لوگوں سے چھينا ہوا مال اور ان كے حقوق ادا كر سكے؟ بلكہ
اگر اس كے پاس نيكياں ہوئيں تو وہ مظلوم تو اس كى نيكياں لے جائيں گے، اس كا ذكر
مندرجہ ذيل حديث ميں كچھ اسطرح ملتا ہے:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے
فرمايا:
" اے ميرے صحابہ كيا تمہيں معلوم ہے
كہ قلاش اور مفلس شخص كون ہے؟
تو صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم
نے عرض كيا:
اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ
وسلم قلاش و مفلس اور كنگال وہ شخص ہے جس كے پاس نہ تو درھم ودينار ہو اور نہ مال و
متاع.
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے
فرمايا:
" ميرى امت ميں سے مفلس وقلاش اور
كنگال وہ شخص ہے جو روز قيامت بہت سى نيكياں اور نماز، روزہ اور زكاۃ كے ساتھ آئے
گا، ليكن اس نے كسى شخص پر سب و شتم كيا ہو گا، اور كسى كو مارا پيٹا ہو گا، اور
كسى كا مال ہڑپ كيا ہو گا، تو يہ اس كى نيكياں لے گا، اور وہ بھى اس كى نيكياں لے
كر چلتا بنے گا، اور اگر اس كى نيكياں مظلوموں كا حق ادا كرنے سے قبل ختم ہو گئيں
تو ان مظلوموں كے گناہ اس ظالم شخص پر ڈال كر اسے جہنم ميں پھنك ديا جائے گا"
اور عقبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ
بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
" ٹيكس والا جنت ميں داخل نہيں ہو
گا"
امام بغوى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
ٹيكس والے سے مراد وہ شخص ہے جو تاجر
حضرات سے عشر كے نام پر ٹيكس وصول كرتا ہے، يعنى زكاۃ
حافظ منذرى رحمہ اللہ تعالى كہتے
ہيں:
ليكن اب تو يہ لوگ عشر كے نام سے
ٹيكس وصول كرتے ہيں، اور ايك بغير نام كے ٹيكس بھى وصول كرتے ہيں، بلكہ جو كچھ يہ
ليتے ہيں وہ حرام اور ناحق ہے، اور اپنے پيٹوں ميں آگ بھر رہے ہيں، جس كى ان كے پاس
كوئى دليل نہيں، بلكہ ان پر اللہ تعالى كا غضب اور شديد قسم كا عذاب ہے. اھـ
شيخ الاسلام ابن تيميۃ رحمہ اللہ
تعالى اپنى كتاب " السياسۃ الشرعيۃ " كے صفحہ نمبر ( 115 ) ميں كچھ اس طرح كہتے
ہيں:
اور جو كوئى راستے ميں ڈاكہ ڈالنے
والا نہ ہو، ليكن مسافروں، چوپايوں اور جانوروں اور سامان وغيرہ پر راہبرى ( يعنى
حمايت و حفاظت كے بدلے مال ) كى اجرت يا ٹيكس وغيرہ ليتا ہو تو يہ مكاس يعنى ٹيكس
لينے والا ہے، اسے ٹيكس لينے والوں كى ہى سزا دى جائے گى....
اور يہ شخص ڈاكو نہيں كيونكہ اس سے
راستے كا امن خراب نہيں ہوتا اور ڈاكہ نہيں پڑتا، ليكن روز قيامت اسے شديد قسم كا
عذاب ديا جائے گا، حتى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے غامدى قبيلہ كى عورت كے
بارہ ميں ارشاد فرمايا تھا:
" يقينا اس نے ايسى توبہ كى ہے اگر
ايسى توبہ ٹيكس لينے والا بھى كرے تو اسے بخش ديا جائے" اھـ
اور مستقل فتوى كيمٹى سے مندرجہ ذيل
سوال كيا گيا:
سودى بنكوں، يا كسٹم كے معاملات، يا
ٹيكسوں كے معاملات ميں ملازمت كرنے كا حكم كيا ہے؟
كسٹم ميں كام يہ ہے كہ حرام اور حلال
سامان مثلا شراب اور تمباكو وغيرہ كى چھان پھٹك كى جاتى اور اس پر كسٹم فيس مقرر كى
جاتى ہے، ايسى ملازمت كا حكم كيا ہو گا؟
كميٹى كا جواب تھا:
اگر تو ٹيكس وغيرہ كے معاملات ميں
وہى كام ہيں جو آپ نے سوال ميں ذكر كيے ہيں تو يہ بھى حرام ہے؛ كيونك اس ميں ظلم
وزيادتى، اور بے راہ روى ہے، اور اس ميں حرام اشياء كا اقرار اور اس پر ٹيكس كا
حصول بھى پايا جاتا ہے. اھـ
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ
اللبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 64 ).\
تو اس سے واضح ہوتا ہے كہ ٹيكس اور
كسٹم فيس لينا، يا اسے لكھنا، اور اس پر معاونت كرنا شديد حرام ہے.
دوم:
يہ ديكھتے ہوئے كہ يہ ظلم و ستم
مسلمانوں پر ہو رہا ہے، اور آپ كا اس طرح كى ملازمت ترك كرنے سے مسلمانوں سے يہ
ٹيكس ختم نہيں ہو گا، لھذا اس طرح كى حالت ميں چاہيے تو يہ كہ اگر ہم اس برائى كو
بالكل ختم نہيں كر سكتے تو پھر حتى الامكان اسے كم كرنے كى كوشش اور جدوجھد كريں.
لھذا اگر آپ يہ ملازمت اس مقصد سے
كريں كہ مسلمانوں سے اس ظلم كو ختم اور اس ميں حتى الوسع تخفيف كريں گے، تو اس ميں
آپ بہتر اور محسن ہيں، ليكن وہ شخص جو اس محكمہ اور ملازمت ميں صرف تنخواہ كے حصول
كا مقصد ركھے، يا اس كا مقصد صرف ملازمت ہو، يا قانون كى تنفيذ وغيرہ تو پھر يہ شخص
بھى ظالموں اور ٹيكس لينے والوں ميں ہى شامل ہو گا، اور جوچيز بھى اس نے كسى شخص سے
ظلم كرتے ہوئے حاصل كى، روز قيامت اسے اس كے بدلے ميں نيكياں دينا ہونگى، اللہ
تعالى ہميں سلامتى و عافيت عطا فرمائے.
شيخ الاسلام ابن تيميۃ رحمہ اللہ
تعالى كہتے ہيں:
كسى بھى شخص كے ليے ظلم كى معاونت و
مدد كرنا حلال نہيں ہے، كيونكہ تعاون كى دو قسميں ہيں:
پہلى قسم:
نيكى و بھلائى اور تقوى و پرہيزگارى،
اور حدود اللہ كے قيام اور حقوق كى تكميل اور مستحقين تك حقوق كىادائيگى ميں ايك
دوسرے كا تعاون و مدد كرنا....
دوسرى قسم:
گناہ ومعصيت اور ظلم و زيادتى ميں
ايك دوسرے كا تعاون كرنا، مثلا كسى معصوم اور مظلوم شخص كا ناحق خون كرنے ميں تعاون
كرنا، يا كسى كا معصوم مال كو چھيننے ميں معاونت كرنا، يا كسى كو ناحق مار پيٹ ميں
معاون بننا، يہ سب كچھ ان كاموں ميں سے جنہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حرام
قرار ديا ہے...
شريعت اسلاميہ كا دارو مدار مندرجہ
ذيل فرمان بارى تعالى اور فرمان نبوى صلى اللہ عيہ وسلم پر ہے:
{اپنى استطاعت و طاقت كے مطابق اللہ
تعالى كا تقوى اختيار كرو}
فرمان نبوى صلى اللہ عليہ وسلم ہے:
" جب ميں تمہيں كوئى حكم دوں تو اپنى
استطاعت كے مطابق اس پر عمل كرو"
صحيح بخارى و صحيح مسلم شريف.
اور اس پر مدار ہے كہ: مصالح كى
تكميل اور ان كا حصول، اور مفاسد و خرابيوں كو معطل اور ان ميں كمى كرنا واجب اور
ضرورى ہے، اورجب ان دونوں كا آپس ميں تعارض ہو تو دو مصلحتوں ميں سے اعظم اور قوى
حاصل كر لى جائے گى، اور بڑى خرابى كو دور كيا جائے گا، ليكن اس كے ساتھ چھوٹى
خرابى كا احتمال رہےگا، مشروع بھى يہى ہے:
گناہ و معصيت اور ظلم وزيادتى ميں
معاونت كرنے والا وہ شخص ہے جس نے ظلم كرنے ميں ظالم كى مدد و معاونت كى، ليكن جس
شخص نے ظلم كى تخفيف ميں مظلوم شخص كى مدد كى يا اس كا حق ادا كرنے پر معاونت كى وہ
مظلوم شخص كا وكيل ہے؛ نہ كہ ظالم شخص كا، بالكل اسى طرح جس طرح كہ جو اسے قرض دے،
يا كوئى اسے ظالم كى طرف لے جانے كے ليے مال اٹھانے كا ذمہ دار بنائے.
اس كى مثال يتيم اور وقف كے ولى اور
نگران كى ہے كہ جب ظالم شخص نے اس سے مال طلب كيا تو وہ نگران اسے مال نہ دينے كى پورى
كوشش اور جدوجھد كے بعد ظالم كو مال كم دينے كى كوشش اور جدوجھد كرے، تو يہ بہتر
اور محسن شمار ہو گا، اور محسنين كے خلاف كوئى راستہ نہيں، ( يعنى ان كو كوئى گناہ
نہيں ہو گا)
اسى طرح اگر كسى بستى يا بازار يا
شہر والوں پر كوئى ظلم كيا جائے تو ان ميں سے ايك محسن اور اچھا شخص حتى الامكان يہ
ظلم ہٹانے كى كوشش كرے، اور اسے ان كے مابين قدر استطاعت تقسيم كرے اس ميں وہ اپنے
نفس كى خواہش نہ ركھے، اور نہ ہى كسى دوسرے كے ليے، اور نہ ہى اس ميں كوئى رشوت
لينا مقصود ہو، بلكہ وہ ان كى جانب سے اس ظلم كو ختم كرنے اور دينے كى ذمہ دارى لے،
تو يہ شخص محسن شمار ہوتا ہے.
ليكن غالب يہى ہے كہ جو شخص بھى اس
ميں اسطرح داخل ہو ہ وہ ظالموں كا وكيل بنے اور ان سے محبت ركھتے ہوئے ان سے بطور
رشوت كچھ مال بھى حاصل كرے، اور جو چاہے اس كا دفاع بھى كرے، اور جس سے وہ چاہے اس
سے حاصل بھى كرے تو يہ بہت بڑے ظالموں ميں شمار ہو گا جو آگ كے شعلوں ميں جمع كيے
جائيں گے، انہيں بھى اور ان كے اعوان و مددگار بھى اور اس طرح كے دوسرے لوگ بھى جمع
كر كے پھر انہيں آگ ميں پھينك ديا جائے گا. اھـ
ديكھيں: مجموع فتاوى ابن تيميۃ ( 18/
284 )
واللہ اعلم .