82111



ٹيكس كى وصولى كى ملازمت اور اس پر مالى استحقاق كا حكم
ميں محكمہ ٹيكس ميں اس خيال سے ملازمت كرتا رہا ہوں كہ يہ ملازمت حلال ہے، اس ميں كوئى شك نہيں، ميں نو برس تك يہ ملازمت كرتا رہا ہوں، پھر مجھے كسى بھائى نے بتايا كہ يہ ملازمت حرام ہے، چنانچہ ميں نے ايك عالم دين سے اس كے متعلق استفسار كيا تو اس نے مجھے بتايا كہ لوگوں پر ٹيكس كا بوجھ ہلكا اور كم كرنے كى نيت سے يہ ملازمت كرنا جائز ہے، اور اجروثواب كا باعث ہے.
بہر حال ميں نے اس فتوى كے بعد بھى قليل سا عرصہ يہ ملازمت كى ليكن ميرا دل مطمئن نہ ہوا تو ميں نے ملازت چھوڑنے كا فيصلہ كر ليا، يہ ملازمت ترك كرنے كے بعد حكومت كے ذمہ ميرے كچھ مالى مستحقات ہونگے مثلا جو رقم انشورنس كے نام مسے قسطوں ميں لى جاتى رہى، اور اسى طرح ميرے كچھ اور مالى حقوق بھى ہونگے، تو كيا ميرے ليے يہ حقوق لينے جائز ہيں، اور كيا ميں ان سے مستفيد ہو سكتا ہوں ؟
اور اس ملازمت كى حرمت كا علم ہونے سے قبل حاصل ہونے والى تنخواہ كا حكم كيا ہے ؟
اور كيا لوگوں كو سہولت اور ٹيكس ميں كمى دينے كى نيت سے يہ ملازمت دوبارہ كرنى جائز ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

ٹيكس كے محكمہ ميں ملازمت كرنى حرام ہے، كيونكہ اس ميں لوگوں كا ناحق مال كھانے ميں معاونت ہوتى ہے، ليكن اگر ملازم اس ميں يہ نيت ركھے كہ وہ لوگوں پر ٹيكس ميں سہولت اور كمى كريگا، اور حسب استطاعت ان سے ظلم كو رفع كريگا، تو پھر اس ملازمت ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ اس صورت ميں وہ محسنين ميں شامل ہوگا.

اس كى تفصيل سوال نمبر ( 39461 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.

اس بنا پر آپ كے ليے لوگوں پر تخفيف اور ٹيكس ميں كمى كرنے كى نيت سے دوبارہ ملازمت كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو ہر قسم كى بھلائى كى توفيق نصيب كرے.

دوم:

اس ملازمت كى حرمت كا علم ہونے سے قبل آپ جو تنخواہ ليتے رہے ہيں ان شاء اللہ اس ميں كوئى حرج نہيں، اللہ سبحانہ وتعالى نے سود جو كہ كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے اس كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا ہے:

﴿ تو جس شخص كے پاس اس كے رب كى جانب سے دليل آ گئى اور وہ اس سود سے رك گيا تو اس كے ليے وہ ہے جو گزر گيا، اور اس كا معاملہ اللہ كے سپرد ہے ﴾البقرۃ ( 275 ).

تو اللہ سبحانہ وتعالى نے ان كے ليے وہ مباح قرار ديا ہے جو انہوں نے سود كى حرمت كا علم ہونے سے قبل ليا تھا.

اور اسى طرح آپ كے وہ حقوق جو اس ملازمت كى حرمت كے علم سے قبل گورنمنٹ كے ذمہ ہيں، ہميں تو اس كے لينے ميں كوئى حرج مانع نظر نہيں آيا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب



 
 
 
 
سب حقوق اسلام سوال و جواب ويب سائٹ كے ليے محفوظ ہيں ©  1997-2009  : 160.48