الحمد للہ:
اول:
ٹيكس كے محكمہ ميں ملازمت كرنى حرام ہے،
كيونكہ اس ميں لوگوں كا ناحق مال كھانے ميں معاونت ہوتى ہے، ليكن اگر ملازم اس ميں
يہ نيت ركھے كہ وہ لوگوں پر ٹيكس ميں سہولت اور كمى كريگا، اور حسب استطاعت ان سے
ظلم كو رفع كريگا، تو پھر اس ملازمت ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ اس صورت ميں وہ محسنين
ميں شامل ہوگا.
اس كى تفصيل سوال نمبر (
39461 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے آپ
اس كا مطالعہ كريں.
اس بنا پر آپ كے ليے لوگوں پر تخفيف اور ٹيكس
ميں كمى كرنے كى نيت سے دوبارہ ملازمت كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اللہ تعالى سے دعا
ہے كہ وہ آپ كو ہر قسم كى بھلائى كى توفيق نصيب كرے.
دوم:
اس ملازمت كى حرمت كا علم ہونے سے قبل آپ جو
تنخواہ ليتے رہے ہيں ان شاء اللہ اس ميں كوئى حرج نہيں، اللہ سبحانہ وتعالى نے سود
جو كہ كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے اس كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا ہے:
﴿ تو جس شخص كے پاس اس كے رب كى جانب سے دليل
آ گئى اور وہ اس سود سے رك گيا تو اس كے ليے وہ ہے جو گزر گيا، اور اس كا معاملہ
اللہ كے سپرد ہے ﴾البقرۃ ( 275 ).
تو اللہ سبحانہ وتعالى نے ان كے ليے وہ مباح
قرار ديا ہے جو انہوں نے سود كى حرمت كا علم ہونے سے قبل ليا تھا.
اور اسى طرح آپ كے وہ حقوق جو اس ملازمت كى
حرمت كے علم سے قبل گورنمنٹ كے ذمہ ہيں، ہميں تو اس كے لينے ميں كوئى حرج مانع نظر
نہيں آيا.
واللہ اعلم .