82402



سياحتى ميدان ميں كام كرنے كا حكم
كيا سير و سياحت كے ميدان ميں كام كرنا حلال ہے يا حرام ؟

الحمد للہ:

اس وقت سياحت كا معنى بے پردگى، مرد و زن كا اختلاط اور شراب نوشى و اور تنزومزاح كى محفليں، اور جوا قمار بازى، اور ساحل سمندر پر ستر ننگا كر كے گھومنا ہے، اور بعض ممالك ميں تو مندرجہ بالا امور سے بھى آگے بڑھ كر كفار كى جگہوں اور مسكنوں كى زيارت كى جاتى ہے جہاں جانے سے شريعت مطہرہ نے ہميں منع كيا ہے، يا پھر وہاں سے گزرتے ہوئے رونے كا حكم ديا گيا ہے، اور يہ سب كچھ شريعت اسلاميہ كے مخالف اور گناہ و برائى اور ظلم و زيادتى ميں تعاون شمار ہوتا ہے، اور حرام كمائى كا باعث ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم گناہ و برائى اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو، اور اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو، يقينا اللہ تعالى شديد سزا والا ہے ﴾المآئدۃ ( 2 ).

عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس قوم جسے عذاب سے دوچار كيا گيا ہے ان كے ہاں نہ جاؤ مگر يہ كہ تم روتے ہوئے وہاں جاؤ، اور اگر تم رونے والے نہيں تو پھر وہاں مت جاؤ كہيں يہ نہ ہو كہ تمہيں بھى وہى عذاب پہنچ جائے جو انہيں پہنچا تھا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 423 ) اور ( 3380 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2980 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ان يصيبكم " يعنى خدشہ ہے كہ كہيں تمہيں بھى وہى عذاب نہ پہنچ جائے، اور اس خدشہ كى وجہ يہ ہے كہ: رونا اسے سوچ و بچار اور عبرت حاصل كرنے پر ابھارےگا، گويا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں يہ حكم ديا ہے كہ وہ ان حالات كے متعلق سوچ و بچار كريں كہ جن ميں رونا واجب ہوتا ہے، كہ اللہ تعالى كى تقدير نے ان كفار كو زمين ميں رہنے كى طاقت و قدرت دى، اور انہيں بہت عرصہ ڈھيل بھى دى پھر ان پر اللہ تعالى كا عذاب اور ناراضگى كا كوڑا برسا، اور وہى اللہ سبحانہ وتعالى دلوں كو پھيرنے والا ہے، تو مومن كو اس كا خوف رہنا چاہيے كہ كہيں اس كا انجام بھى اس طرح كا نہ ہو.

اور اسے يہ بھى سوچ و بچار كرنى چاہيے كہ ان لوگوں نے اللہ تعالى كى نعمتوں كے مقابلہ ميں كفر و شرك كا ارتكاب كيا، اور انہوں نے اپنى عقلوں كو ايسى اشياء ميں استعمال نہ كيا جس سے اللہ تعالى پر ايمان اور اس كى اطاعت و فرمانبردارى واجب ہوتى ہے.

تو جو شخص بھى ان كفار كى آباديوں كے پاس سے گزرے اور وہ ان كے حالات كے متعلق سوچ و بچار نہ كرے جو رونے كو واجب كرتا ہے، تو اس كى بھى ان كفار سے مشابہت ہوتى ہے، اور اس كى قسوت قلبى، اور اس كے عدم خشوع پر دلالت كرتى ہے، تو خدشہ ہے كہ كہيں يہ چيز اسے بھى ان كفار جيسے اعمال كرنے كا باعث نہ بن جائے جن كى بنا پر اسے بھى ان جيسى سزا ملے "

ديكھيں: فتح البارى ( 1 / 531 ).

اور اگر فرض كريں كہ آپ كے ملك يا كمپنى ميں سير و سياحت حرام جگہوں كى راہنمائى نہيں كرتى اور انہيں وہاں نہيں لے جاتى، اور نہ ہى اس ميں ان كا تعاون كرتى ہے تو پھر آپ كے ليے ان كے ساتھ كام كرنا جائز ہے.

اگر آپ ايسى سياحتى كمپنى ميں ملازمت كرتے ہيں جو برائى كى نشر واشاعت كرتى، اور اس كى جانب راہنمائى كرتى ہے تو آپ اس كمپنى كى ملازمت سے جتنى جلدى نكل سكتے ہيں نكل جائيں، اور كمپنى كے مالكان اور ذمہ داران كو اللہ تعالى كے تقوى اور ڈر اختيار كرنے اور حرام سے اجتناب كرنے كى نصيحت كريں، اور اگر آپ ان كے ساتھ مل كر ابھى كام نہيں كرتے تو آپ ان كے ساتھ كام نہ كريں.

اور آپ كو علم ہونا چاہيے كہ جو كچھ اللہ تعالى كے پاس ہے وہ بہتر ہے، اور زيادہ باقى رہنے والا ہے، اور آپ اور آپكى اولاد كا جسم حرام پر نہيں پلنا چاہيے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتا ہے اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے روزى بھى وہاں سے ديتا ہے جہاں سے اسے گمان بھى نہيں ہوتا، اور جو شخص بھى اللہ تعالى پر توكل اور بھروسہ كرتا ہے تو اللہ تعالى اس كے ليے كافى ہو جاتا ہے، يقينا اللہ تعالى اپنے كام كو پورا كرنے والا ہے، اللہ تعالى نے ہر چيز كا ايك اندازہ مقرر كر ركھا ہے ﴾الطلاق ( 2 - 3 ).

اور صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى اللہ تعالى كے ليے كوئى چيز ترك كى اللہ تعالى اسے اس كے بدلے ميں اس سے بھى بہتر چيز عطا فرماتا ہے "

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے اپنى كتاب " حجاب المراۃ المسلمۃ صفحہ نمبر ( 49 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

واللہ اعلم .


الاسلام سوال و جواب



 
 
 
 
سب حقوق اسلام سوال و جواب ويب سائٹ كے ليے محفوظ ہيں ©  1997-2009  : 129.11