الحمد
للہ :
اول:
داڑھى منڈاونا حرام ہے، اور بڑھانا
فرض ہے.
دوم:
جھنڈے كو سلام كرنا جائز نہيں ہے.
سوم:
شريعت اسلامى كے مطابق چلنا اور اس
كے مطابق فيصلے كروانا فرض ہيں، اور كسى بھى مسلمان شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ بڑے
لوگوں اور سرداروں اور آفيسروں كو عجميوں كى طرح سلام كرے، كيونكہ عجميوں سے مشابھت
اختيار كرنے كى ممانعت وارد ہے، اور اس ليے بھى كہ ايسا كرنے ميں ان كى تعظيم كرنے
ميں غلو پايا جاتا ہے.
چہارم:
جو شخص بھى اللہ تعالى كا كلمہ بلند
كرنے كے ليے، اور مسلمانوں كا دفاع اور دشمنوں سے مسلمان ممالك كى حفاظت كرنے كے
ليے لڑائى كرتا ہے، وہ فى سبيل اللہ يعنى اللہ تعالى كے راستے ميں ہے، اور اگر وہ
قتل كر ديا جائے تو ( ان شاء اللہ ) وہ شہيد ہے؛ كيونكہ مقاصد اور غرض و غايت كا
اعتبار كيا جاتا ہے، اور يہ ممكن ہے كہ آپ فوج كى نيت كے خلاف نيت كريں؛ مثلا يہ كہ
آپ اپنے جھاد كرنے ميں اللہ تعالى كا كلمہ بلند كرنے كى نيت كريں ( جب تك دوسرا
فريق جس سے آپ لڑائى كر رہے ہيں اس سے شرعا لڑائى كرنا جائز ہو ) اگرچہ آپ كے علاوہ
باقى سب اس كے خلاف بھى نيت كر ليں، مثلا وطنى جھاد يا وطن كے دفاع كى نيت.
پنجم:
اللہ تعالى كى معصيت كے علاوہ باقى
ہر كام ميں والدين كى اطاعت و فرمانبردارى واجب ہے، كيونكہ خالق ومالك كى نافرمانى
اور معصيت ميں مخلوق كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں كى جاسكتى.
اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے،
اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ
كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے .
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 12 / 22 ).